Showing posts with label مضامین. Show all posts
Showing posts with label مضامین. Show all posts

Monday, 27 April 2020

خدمتِ انسانیت مسلمان نہیں چھوڑیں گے کچھ بھی ہو ؟


ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ ،مبارک پور ،اعظم گڑھ 🕯
08 / اپریل، بدھ /2020 /


چاہے جتنا بدنام کیا جائے، پر انسانیت کی خدمت کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے مسلمان


اسلام اور انسانیت کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ اسلام انسانیت کا محافظ ہے۔ مذہبِ اسلام کی تعلیمات اور ہدایات کی ابتداء ہی انسانیت سے ہوتی ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسانیت کے ناطے ہر آدمی کا ایک دوسرے پر کچھ حق ہے اور ہر آدمی ایک دوسرے کے لیے قدر، عزت اور پیار کے قابل ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں 

 أحبُّ الناس إلى الله أنفعهم للناس." ( رواه الطبرانی في الأوسط و الصغير )

ترجمہ : اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ پیارا انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچاۓ۔

اسی لیے اسلام کا یہ قانون ہے کہ مصیبت، پریشانی، بیماری، بھوک، پیاس یا کسی ناگہانی آفت کے موقعے پر ہر انسان کی مدد کی جائے گی۔ انسانوں پر رحم و مروت کا برتاؤ کرنے کی تعلیم اسلام اس اسلوب میں دیتا ہے :

الراحمون يرحمهم الرحمن. ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء. ( رواه الترمذي في جامعه )

ترجمہ : رحم کرنے والوں پر خداۓ رحمٰن رحم فرماتا ہے۔ تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔

اسلامی تعلیمات سے آشنا مسلمانانِ ہند نے کورونا وائرس کی مہاماری کے اس نازک دور میں انسانیت کے لیے جو خدمات پیش کی ہیں اور کر رہے ہیں وہ یقیناً لائق ستائش اور قابل تقلید ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے اس کردار سے انسانیت کے پہلو کو اجاگر کیا ہے اور مخلوق خدا کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور سچائی تو یہ ہے کہ اپنے اس عمل کے ذریعہ درحقیقت وہ انسانیت اور مذہب دونوں ہی کی خدمت کررہے ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال کو دونوں نظریوں سے دیکھا اور سراہا جاسکتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں بلا تفریق مذہب و ملت ہر غریب اور ہر حاجت مند کی مدد کر رہے ہیں، ان تک ان کی ضرورت کا سامان پہنچا رہے ہیں، راشن بانٹ رہے ہیں، یہاں تک کہ بدن چھپانے کے لیے کپڑے اور پیروں پر پہننے کے لیے چپل دے کر لوگوں کی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کی بہت سی ملی تنظیمیں اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور لوگوں کو ہر قسم کی مدد مہیا کر رہی ہیں۔ صاحبِ ثروت مسلمان اپنے اپنے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے قائم کردہ ریلیف فنڈ میں عطیہ دے رہے ہیں اور وزیراعظم کے قائم کردہ ریلیف فنڈ میں بھی چندہ دے رہے ہیں۔ مدارس کے اساتذہ اور سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں سے اچھی خاصی رقم دے کر کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ 

ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملے کہ بڑے شہروں میں کام کرنے والے مزدور جب کام بند ہو جانے کے سبب بڑی کس مپرسی کے عالم میں اپنے اپنے وطن واپس ہو رہے تھے تو مسلم آبادیوں میں پہنچنے پر مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا، ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کا بندوبست کیا اور ہر طرح انھیں تسلی دی۔ مسلمانوں کی محبت اور ان کا حسن سلوک دیکھ کر وہ غیر مسلم مزدور اس قدر متاثر ہوئے، کہ آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے ان کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ سراونی، عارف پور، ہاپوڑ کے مسلمانوں کو اس حوالے سے بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ان کے گاؤں میں ہندو مزدوروں کے پہنچنے پر ان کے کھانے پینے اور رہنے کا بندوبست کیا۔

اکبر پور ،یو پی کی رہنے والی گڑیا کی انسانی ہمدردی بھی دنیا نے دیکھی۔ اس گڑیا کا نام تحرین ہے، بشر خان کی بیٹی ہے۔ اس چھوٹی سی بچی کے احساس ذمہ داری اور جذبہ قربانی کو ہمارا سلام کہ اس نے مہینوں سے اپنے گولک میں جو پیسے جمع کیے تھے،  گولک توڑ کر اس نے سارے پیسے لیے اور پاس کی پولیس چوکی جا پہنچی اور وہاں کے عہدے دار امت سنگھ کو پیسے دیتے ہوئے بولی: لیجیے میرے ان پیسوں سے غریبوں کو کھانا کھلا دیجیے گا۔

یہ ایک گڑیا ہی نہیں اس طرح کا ایثار کرنے والے بہت سے بچے ہیں جنھوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی جمع کی ہوئی پونجی غریبوں پر خرچ کر دی۔

دنیا کے سامنے ایسے مسلمان بھی آۓ جنھوں نے حج و عمرہ کے لیے برسوں سے جمع کی ہوئی پونجی کورونا وائرس کی اس مہاماری کے سبب ضرورت مندوں میں خرچ کر دی اور دنیا کو یہ بتایا کہ مسلمان کسی کو پریشان حال نہیں دیکھ سکتا اور اگر اس کے سماج میں کوئی حاجت مند ہے تو وہ اس کی حاجت براری کے لیے اپنی گاڑھی کمائی بھی دان کر سکتا ہے۔ جموں کشمیر کی خالدہ بیگم نے حج کے لیے جمع کیے ہوئے پانچ لاکھ روپے دان کر کے متعصب میڈیا اور چڈھی دھاریوں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے جو کشمیریوں کو آتنکی کہتے نہیں تھکتے۔

ہم نے ایسے مناظر بھی دیکھے کہ مزدوروں سے بھری ہوئی بسیں جب کسی مسلم آبادی سے گزرتی ہیں تو اس آبادی کے مسلم نوجوان سڑکوں پر کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کھانے کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں ہیں، جیسے ہی کوئی بس قریب آتی ہے وہ اسے رکنے کا اشارہ کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان کھانے کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے ہیں، جو بھی مانگتا ہے سب کو دیتے ہیں۔

واللہ ایسے نظارے دیکھ کر خوشی سے آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور دل مچل کر کہتا ہے کہ اے قوم مسلم، بخدا تو ایک خوش قسمت قوم ہے، واللہ تو ایک غریب پرور قوم ہے، حقا، تو سب سے محبت کرنے اور ہر ایک کو پیار دینے والی قوم ہے۔ اللہ کی قسم، دنیا تجھے چاہے جتنا بدنام کرے، تیری اصل صورت کبھی مسخ نہ ہوگی اور دشمن لاکھ کوشش کر لے تیرا حقیقی رنگ کبھی  نہ جاۓگا اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے والے تیرے حقیقی رنگ سے تیری سچائی ضرور پہچان لیں گے۔
  

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
   تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
   یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے 

      فیض  ہوگا  جہاں  میں  عام  مرا
      خدمتِ   خلق    ہو گا   کام    مرا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


کورونا وائرس, لاک ڈاؤن اور قانونِ حکومتِ ہند


ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری✍️
🕯استاذ  : الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ 🕯
06 / اپریل ،دوشنبہ/ 2020

کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن - جب اڑ گئیں قانون کی دھجیاں


احمق لوگ دوسروں کی زندگیوں کو کس طرح خطرے میں ڈالتے ہیں اس کے کئی نمونے ہمیں کل رات اس وقت دیکھنے کو ملے جب پی ایم مودی کی اپیل پر ملک بھر میں دیپ جلاۓ جا رہے تھے۔

پی ایم نے تو صرف دیپ اور موم بتی جلانے کی اپیل کی تھی لیکن احمقوں کو تو گویا جشن منانے کا موقع ہی مل گیا اور پھر پی ایم کی اپیل کا مذاق اس طرح اڑایا گیا کہ پورا ملک پٹاخوں کی آواز سے گونج اٹھا اور ایسا محسوس ہوا کہ گویا دیوالی کا تہوار آج ہی ہو۔

صرف پٹاخے پھوڑ کر ہی پی ایم مودی کی اپیل کا مذاق نہیں اڑایا گیا بلکہ کچھ لوگوں نے تو حد ہی پار کر دی اور قانون کی دھجیاں ہی اڑا دیں۔ آئیے دیکھتے ہیں لاک ڈاؤن کے ساتھ کیے گئے اس مذاق کے کچھ نمونے


*01*

  پانچ اپریل کی رات 9 بجتے ہی جب پی ایم مودی کی اپیل پر لوگ اپنے اپنے گھروں میں دیے اور موم بتیاں جلا رہے تھے اسی وقت تلنگانہ کے بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ اپنے حامیوں کے ساتھ ہاتھوں میں مشعل لیکر سڑک پر اتر گئے۔

 بی جے پی ایم ایل اے نے اس دوران سوشل ڈسٹینسنگ کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا۔ ملک بھر میں اس وقت مکمل لاک ڈاؤن ہے، لیکن راجہ سنگھ ہیں کہ انھوں نے پی ایم مودی کی نصیحت کے ساتھ ہی کورونا وائرس کے خطرے کو بھی تاک پر رکھ دیا۔

راجہ سنگھ نے اپنے حامیوں کے ساتھ مشعل جلوس نکالا اور گو بیک چینی وائرس کے نعرے بھی لگائے۔ لیکن اس دوران انہوں نے پی ایم مودی کی اس نصیحت کی ہی دھجیاں اڑی دیں جس میں پی ایم نے کہا تھا کہ لوگ دیا اور کینڈل جلائیں لیکن سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھیں۔

لیکن راجہ سنگھ پر پی ایم مودی کی اپیل کا ذرا بھی اثر نظر نہیں آیا۔ راجہ سنگھ نہ صرف حامیوں کی بھیڑ لیکر سڑک پر اتر گئے، بلکہ کورونا کے خلاف ان کی اس کوشش میں سوشل ڈسٹینسنگ کا نام و نشان بھی نظر نہیں آیا۔

راجہ سنگھ نے اپنے اس مشعل جلوس سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چھہ فٹ کی دوری بے وجہ کی بات ہے۔ یہ دوری تو باقی لوگوں کے لیے ہے، نہ کہ مجھ جیسے ایم ایل اے کے لیے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ گھر میں رہو نہیں تو دیکھتے ہی گولی چلانے کے آدیش دینے پڑ جائیں گے۔ مگر افسوس کہ جب راجہ سنگھ نے مشعل لیکر جلوس نکالا اس وقت تلنگانہ پولس کہیں نظر نہیں آئی۔ شاید راجہ کے لیے کوئی قانون نہیں ہوتا ہے۔

*02* 

کورونا وائرس کے خلاف پی ایم مودی کی اپیل پر اتر پردیش کے بلرام پور ضلعے کی بی جے پی مہیلا مورچے کی ضلع صدر منجو تیواری کو اتنا جوش آیا کہ انہوں نے کورونا کو بھگانے کے لیے ہوائی فائرنگ تک کر دی۔ 

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوش میں آ کر فائرنگ کر دی تھی۔ کمال تو یہ ہے کہ انھوں نے اس کی ویڈیو بھی اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کر دی جسے بہت سے لوگوں نے شیئر بھی کیا اور اس طرح یہ ویڈیو وائرل ہو گیا۔حالانکہ اس پر فضیحت ہونے کے بعد انہوں نے اب اپنی اس حرکت کے لیے معافی مانگی ہے۔

بی جے پی مہیلا مورچہ کی ضلع صدر منجو تیواری نے اپنی صفائی میں لوگوں سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل جب میں گھر سے باہر نکلی تو مجھے بالکل دیوالی جیسا ماحول لگا۔ اس سے میں جوش میں آ گئی اور فائرنگ کر دی۔ میں اس کے لئے بہت شرمندہ اور لجت ہوں اور جب تک زندہ رہوں گی پھر کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گی۔


*03*

 اتوار کی رات کو دیے جلانے کے ساتھ ہی جے پور میں لوگوں نے آسمان میں روشنی کے بیلون اڑائے، جس کے نتیجے میں ویشالی نگر میں ایک گھر پر روشنی کا ایک بیلون گر گیا اور گھر میں آگ لگ گئی۔ اور راجستھان کی راجدھانی میں آگ لگنے کے سبب ہڑکمپ مچ گیا۔

یہ حادثہ ویشالی نگر کے ہنومان ایکسٹینشن کا ہے۔ جہاں بیلون گرنے سے گھر پوری طرح جل گیا۔ وہیں اس گھر میں لگی ہوئی آگ کے سبب پاس کا مکان بھی آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ حالانکہ موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے جلد ہی آگ پر قابو کر لیا، ورنہ ایک بڑی انہونی ہو سکتی تھی۔

*04*

  تلنگانہ کے علاوہ بی جے پی ایم ایل اے سے جڑا ایک حادثہ مہاراشٹر کے وردھا سے بھی سامنے آیا ہے۔ یہاں بی جے پی ایم ایل اے 'داداراؤ کیچے' کے مکان پر بھاری بھیڑ نظر آئی۔

دراصل داداراؤ کیچے کا جنم دن تھا، اس موقع پر انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران پریشان لوگوں کو راشن بانٹنے کا فیصلہ لیا۔ لیکن جب ان کے مکان پر ضرورت مند لوگ پہنچے تو تصویر ڈراؤنی نظر آئی۔

ایم ایل اے کے مکان پر بڑی تعداد میں مرد و زن راشن لینے کے لیے پہنچے۔ یعنی ایک طرف جہاں پورا دیش سوشل ڈسٹینسنگ کا پالن کر رہا ہے اور کورونا سے بچاؤ کے لیے یہ سب سے اہم طریقہ بتایا جا رہا ہے، وہیں راشن بانٹنے کے نام پر بی جے پی ایم ایل اے کے گھر پر یہ قانون پوری طرح ٹوٹتا ہوا دکھائی دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے معاشرے میں ایسے سماج دشمن عناصر رہے جنھیں کورونا وائرس جیسی ہلاکت خیز وبا کے دوران اس قسم کی مستی سوجھ رہی ہے تو کیا ہم اپنے ملک کو اس وبا کی تباہ کاریوں سے بچا پائیں گے؟ اور کیا ایسے ناعاقبت اندیش لوگ کبھی سمجھ پائیں گے کہ ان  کارروائیوں کی ضرورت نہیں ہے؟


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


Saturday, 25 April 2020

نشانے پر ایک ہی قوم کیوں ؟

ابو رَزِین مولانا  محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
02 /اپریل، 2020 ،جمعرات 

نشانے پر صرف ایک خاص قوم ہی کیوں؟


دہلی کے نظام الدین علاقے میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ یہاں سے 2361 لوگوں کو نکالا گیا ہے۔

اسی دوران دہلی پولس نے دہلی ہی کے 'مجنو کا ٹیلہ گرودوارہ' میں موجود لوگوں کو نکالنے کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔

میڈیا کے ذریعے تبلیغی مرکز کے بارے میں آپ کو بہت ساری اطلاعات مل چکی ہوں گی، آئیے اب گرودوارے کے بارے میں بھی کچھ جانتے ہیں۔

دہلی کے مجنو کے ٹیلہ میں واقع گوردوارے میں سکھ قوم کے لوگ پھنسے ہیں۔ ان میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ دہلی پولس اور پنجاب گورنمنٹ کے مقررہ افراد کے ذریعے ان لوگوں کو نکالنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ بسوں میں بھرکر سب کو نہرو وہار کے ایک اسکول میں شفٹ کیا جا رہا ہے۔ اسی اسکول میں کوارنٹین سینٹر بنایا گیا ہے۔

دہلی سکھ گرودوارہ انتظامیہ کمیٹی کی لاپرواہی کے چلتے تاریخی گرودوارہ مجنوں ٹیلہ صاحب میں پچھلے تین دنوں سے 300 سے زیادہ لوگ پنجاب میں اپنے گھروں کو جانے کی آس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے، ایسے آثار دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دہلی سکھ گردوارہ انتظامیہ کمیٹی کے ذریعے دہلی میں پھنسے پنجاب کے لوگوں کو امرتسر تک بھیجنے کے لیے ایک اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی دو دو بسیں بھیجنے کا اعلان کیا گیا۔ بس کو بھیجنے کا وقت 29 مارچ کو صبح 6 بجے بتایا گیا تھا۔

اس کے بعد دہلی میں پھنسے پنجاب کے رہنے والے لوگ بڑی تعداد میں گوردوارہ مجنو ٹیلہ صاحب پہنچ گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد کمیٹی اسٹاف نے باقاعدہ پنجاب جانے کے امیدوار لوگوں کے نام اور آدھار کارڈ نمبر رجسٹرڈ کیے اور لگ بھگ 400 لوگوں کی تعداد سامنے آئی۔

زیادہ بھیڑ دیکھ کر ہڑبڑی میں کمیٹی نے دو بسوں کے ذریعے گرودوارے سے کچھ لوگوں کو روانہ کر دیا۔ ساتھ ہی 300 سے زیادہ لوگوں کو یہ دلاسہ دیا گیا کہ آپ گرودوارے کے لنگر حال میں رکیں، یہاں لنگر کی پورا انتظام ہے، دوسرے دن بسوں کا انتظام کرکے آپ سب کو بھیجا جائے گا۔ لیکن 29 مارچ کو بسوں کا کوئی انتظام نہیں ہو پایا۔

30 مارچ کو کمیٹی کے صدر ' منجندر سنگھ سرسا' نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ' کیپٹن امریندر سنگھ' کو ٹویٹ کرکے گرودوارہ مجنو ٹیلہ میں رکے ہوئے پنجاب کے لوگوں کو پنجاب واپس لے جانے کے لیے بسیں دینے کی مانگ کی۔ ساتھ ہی ٹویٹ میں کچھ فوٹوز بھی بھیجے جن میں بھاری بھیڑ نظر آ رہی تھی۔ 

31 مارچ کو صدر ' سرسا' نے ایک نیا ٹویٹ کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ' اروند کیجریوال' سے ان لوگوں کی میڈیکل جانچ کی مانگ کر دی۔ سرسا نے کہا کہ گرودوارہ مجنو ٹیلہ میں پھنسے ہوئے لوگوں میں سے کچھ کے اندر کورونا بیماری کی علامتیں نظر آ رہی ہیں اس لیے گورنمنٹ ان کی میڈیکل جانچ کروا کر ان کو ان کے گھروں تک بھیجے۔

دہلی کمیٹی کے سابق صدر' منجیت سنگھ جی،کے' نے اس حادثے کو کمیٹی کی سخت لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ منجندر سنگھ سرسا نے پہلے ان لوگوں کو خود گرودوارے میں بلایا، تین دن ایک جگہ ان کو اکٹھے رکھا اور اب ان کو کورونا کا مشتبہ بتا کر ان کو ذہنی طور پر پریشان کیا جا رہا ہے۔

'جی، کے' نے مزید کہا کہ اگر سرسا کے پاس لوگوں کے بھیجنے کے ذرائع نہیں تھے، تو کیوں 400 لوگوں کو بلاکر یکجا کیا گیا۔ 'جی، کے' نے دعویٰ کیا کہ نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز معاملے کا خلاصہ سامنے آنے کے بعد سرسا ڈر گئے ہیں اور ذمے داری سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی میں بھی کورونا کی علامات پائی جاتی ہیں تو اس کے لیے سرسا ذمے دار ہوں گے۔

مجنوں ٹیلہ کے اس حادثے کو ہم نے اتنی تفصیل کے ساتھ اس لیے بیان کیا تاکہ آپ مکمل حالات سے آگاہ ہو سکیں اور تبلیغی مرکز کے حادثے کے ساتھ صحیح طور پر موازنہ کر سکیں۔

اب آپ اندازہ کریں کہ نیوز چینلوں اور اخبارات کے مطابق جو لاپرواہی تبلیغی جماعت کے مرکز میں ہوئی ہے بالکل ویسی ہی لاپرواہی گوردوارے میں بھی ہوئی ہے۔ لیکن متعصب میڈیا نے تبلیغی جماعت کے بہانے ایک خاص قوم کو ہی نشانہ بنا کر اس کے خلاف دنیا بھر میں پروپیگنڈہ کیا اور اس واقعے کو اتنا اچھالا کہ بہت سے سادہ لوح شہری بھی ان کے جال میں پھنس گئے اور وہ خاص قوم پوری کی پوری ان کے نشانے پر آ گئی اور پوری قوم ہی غیر ذمہ دار قرار دے دی گئی جو حد درجہ افسوس ناک، شرم ناک، اور قابل مذمت ہے۔

زعفرانی میڈیا نے اپنے اس پروپیگنڈے کے ذریعے پورے ملک کو گمراہ کرنے اور ہندوستانی شہریوں میں نفرت پھیلانے کی جو مذموم کوشش کی ہے اس کے لیے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت ہند کے ذریعہ ایسے ٹی-وی چینلوں اور اخبارات کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور انھیں ان کے کیے کی سزا دی جائے لیکن ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ان سے لگتا یہی ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا اور نفرت کے یہ پجاری اسی طرح نفرت کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں


ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوی ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ ،مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
31 / مارچ ، 2020 ، منگل

ہم اللہ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے


 ہم اللہ کے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے ہیں یہ ایمان افروز جملہ ایک ستم رسیدہ مومن اس بادشاہ کے سامنے کہتا ہے جس کے یہاں وہ پناہ لینے آیا ہوا ہے۔

کون.....ہے.....وہ.......؟


 تاریخ اس بندۂ مومن کو جعفر بن ابی طالب کے نام سے پکارتی ہے۔ اسلام کا ابتدائی دور ہے، رب کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے بہت تھوڑے ہیں، عرب کے مرکزی شہر ' مکہ' میں محصور ہیں، ایک خدا کو ماننے کا نتیجہ ہے کہ مشرکین مکہ کے ظلم و ستم کے شکار ہیں۔ 

ان غریب مسلمانوں کو ہر طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اتنا ستایا گیا کہ مکہ کی سر زمین ان کے لیے تنگ کر دی گئی، انھیں اتنا مارا گیا کہ وہ مظلوم مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں اور ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے اور ظالموں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جان سے بھی زیادہ عزیز اپنا وطن چھوڑ ایک اجنبی ملک میں جا کر پناہ گزیں ہوئے۔

اَسِّی سے زیادہ مجبور و مظلوم مسلمانوں کا یہ قافلہ جس میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ملک حبشہ پہنچتا ہے، اور ربِ کائنات کی ایسی تدبیر کہ ملکِ حبشہ کا بادشاہ مسلمانوں کے اس قافلے کو اپنے دربار شاہی میں حاضر کیے جانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔

قافلہ دربار شاہی میں حاضر ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قافلے میں ایک شخص ایسا ہے جو پیش پیش ہے، قافلے والوں نے اپنی ترجمانی کے لیے اسے اپنا نمائندہ منتخب کر رکھا ہے، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بادشاہ کے دربار میں بے خوف داخل ہوتا ہے اور شاہی دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کے سامنے سر نہیں جھکاتا ہے، اس کا سجدہ نہیں کرتا ہے، بلکہ سر اٹھا کر اسے السلام علیکم کہتا ہے۔

کون ہے یہ بے باک مسلمان جو اس کس مپرسی کے عالم میں بھی اپنے دین کے احکام نہیں بھولتا ہے، اپنا عقیدہ خراب نہیں کرتا ہے، اپنے دماغ کو مغلوبیت کی خاک سے آلودہ نہیں کرتا ہے، جس بادشاہ کے یہاں پناہ لینے گیا ہے اس کے یہاں کا راہ و رسم بھی نہیں اپناتا ہے۔

سنو، تاریخ بتاتی ہے کہ اس بطل عظیم کا نام ہے جعفر بن ابی طالب اور اس کے سامنے ہے اس وقت کی دنیا کا ایک باجبروت بادشاہ نجاشی۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اس مومنانہ جسارت پر بادشاہ کے درباری ناراض ہو جاتے ہیں ، سجدہ نہ کرنے کو بادشاہ کی گستاخی گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا تم شاہی دربار کے آداب سے بھی آشنائی نہیں رکھتے؟ آخر تم نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ 

مرد مومن حضرت جعفر بن ابی طالب کی طرف سے جو جواب دیا جاتا ہے وہ یہ ہے

 ہم اللہ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے ہادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اہلِ جنت کے درمیان ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت تحیت کے کلمات یہی سلام کے الفاظ ہیں۔ سو ہم بھی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کے الفاظ کہتے ہیں۔ آج بادشاہ کے دربار میں بھی ہم نے انھیں الفاظ میں سلام پیش کیا ہے۔

اس کے بعد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کے پوچھنے پر اسلام کی خوبیاں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے۔

پھر کیا تھا اللہ کی غیبی مدد شامل حال ہوئی اور بادشاہ حضرت جعفر کی تقریر سے اتنا متاثر ہوا کہ درباریوں کی مخالفت کے باوجود اس نے مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دی اور بعد میں خود بھی مسلمان ہو کر صحابۂ کرام کے مقدس زمرے میں شامل ہو گئے۔ رضي الله عنهم أجمعين. 
( تفصیل کے لیے دیکھیے : زرقانی علی المواهب، ج: ۱، ص: ۲۸۸، اور سیرت ابن کثیر و غیرہ کتب سیر )

سبق : حالات کیسے ہی مایوس کن کیوں نہ ہوں، اور ماحول کتنا ہی مخالفانہ کیوں نہ ہو، ایک مسلمان کو اپنے رب کی طرف سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، خدا پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہیے، اپنی تہذیب چھوڑ کر غیروں کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی غیبی تدبیر سے مایوس کن حالات امید افزا ماحول میں تبدیل ہو جائیں گے اور مخالفانہ ماحول سازگار صورت حال میں بدل جائے گا۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹



سڑکوں بس اڈوں پر لوگوں کا اژدھام

ابو رَزِین مولانا  محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ 🕯
29 /مارچ ، اتوار 2020

کورونا وائرس اور سڑکوں، بس اڈوں پر لوگوں کی بھیڑ


دلی، این سی آر کے بارڈر پر غریب مزدوروں کا انبوہ عظیم دیکھ کر رونا آ گیا، احساس ہوا کہ ان غریبوں کی پرواہ کسی کو نہیں، جس وائرس سے دنیا بھر کو خوف دلایا جا رہا ہے ایسا لگا کہ شاید اس وائرس کا خطرہ ان غریب مزدوروں کو نہیں ہے، جبھی تو ان کی فکر کرنے والا کوئی نہیں ہے، جبھی تو کوئی اسپیشل انتظام کیے بغیر انھیں بسوں میں بھر کر ان کے وطن بھیجا جا رہا ہے۔

مجھے حیرت ہے کہ جو حکومت اس وائرس کی روک تھام کو لے کر اس قدر حساس اور فکر مند ہے کہ اس نے ہر چوراہے، ہر گلی اور ہر مسجد پر پولیس کا عملہ مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ گھر سے باہر نکلنے والوں پر لٹھ بازی کی پریکٹس کرے اور اس انوکھے ڈھنگ سے وائرس کو پھیلنے سے روک سکے، اس حکومت کا احساس ذمہ داری اب کہاں گیا؟ کیا اس بھیڑ سے وائرس کے پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے؟ جن گاڑیوں میں بھر بھر کر ان کو ان کے وطن لے جایا جائے گا کیا ایسا ممکن نہیں کہ ان میں سے کوئی وائرس زدہ ہو اور اس کی وجہ سے دوسرے بھی متاثر ہو جائیں؟

ضرور خطرہ ہے۔ جو نظریہ لے کر دنیا چل رہی ہے، جس نظریے کے تحت ملک میں لاک ڈاؤن ہوا ہے اور جس وائرس کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر عام لوگوں کی پٹائی، تذلیل و توہین کا کارنامہ پولیس کا عملہ انجام دے رہا ہے وہ خطرہ یہاں پورے طور سے پایا جا رہا ہے۔ بلکہ اندیشہ تو یہاں تک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی وائرس زدہ ہوا تو وہ جس علاقے میں جاۓ گا وہاں یہ وائرس پھیلے گا اور پورا علاقہ متاثر ہو جاۓ گا جس کی روک تھام کر پانا حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

تو پھر حکومتی سطح پر ان کے لیے کوئی معقول انتظام کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ انھیں ان کے گھر تک پہنچانے کے لیے کوئی اسپیشل انتظام کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ جس طرح ملک سے باہر رہنے والے ہندوستانیوں  کو اسپیشل انتظامات کے ساتھ واپس ملک لایا گیا تھا اسی طرح ان کے لیے کوئی معقول انتظام کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟

شاید غریب ہونا ہی جرم ہے، شاید غریبوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، جو غریب مزدور اپنی محنت سے اپنی کمپنی، یا فیکٹری کو ترقی دیتا ہے، ملک کو معاشی اعتبار سے مضبوط کرتا ہے وہی غریب ایسے حالات میں در بدر کی ٹھوکر کھاتا ہے اور اس کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا ہے، نہ فیکٹری اور کمپنی کے مالکان کو فکر ہوتی ہے اور نہ اقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو۔ آج مختلف صوبوں کی سرحدوں پر نظر آنے والے مزدوروں کے جتھے کچھ یہی داستان بیان کر رہے ہیں، سڑکوں پر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں اور عورتوں کے ساتھ بھوکے پیاسے پیدل اپنے وطن لوٹنے والے یہی قصہ سنا رہے ہیں۔

خدا کرے یہ بخیر و عافیت اپنے گھر پہنچ جائیں، خدا کرے یہ غربت کے ساتھ وائرس کی مار سے محفوظ رہیں، خدا کرے جو پیدل جا رہے ہیں انھیں کھانے پینے کی اشیاء ملتی رہیں، خدا کرے جس آبادی سے وہ گزریں آبادی والے ان کے کھانے پینے اور آرام کا خیال رکھیں۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
   شہر  میں  مزدور  جیسا  در  بہ در   کوئی  نہیں
  جس نے سب کے گھر بناۓ اس کا گھر کوئی نہیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹



کیمپ بند دہلی فساد متاثرین مانگنے پر مجبور

ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
 🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ 🕯
27 / مارچ ، جمعہ 2020

کورونا وائرس : ریلیف کیمپ بند، گھر لوٹے دہلی فساد متاثرین بھیک مانگنے کو ہیں مجب


دہلی فسادات میں اپنا سب کچھ کھو دینے والوں کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، ان مظلوموں کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ کورونا وائرس نے ان کے سامنے مصیبتوں کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔

کورونا وائرس کے چلتے پورا ملک لاک ڈاؤن ہے، ایسے میں دہلی فساد متاثرین کے لیے قائم کیے گئے ریلیف کیمپ بھی بند کیے جا رہے ہیں اور فساد متاثرین کو اپنے اپنے گھر جانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی دہلی کا سب سے بڑا ریلیف کیمپ عید گاہ بھی ہے جسے کورونا وائرس کے چلتے بند کر دیا گیا ہے اور فساد متاثرین کو ان کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

یہ متاثرین اپنے گھر تو لوٹ آئے ہیں لیکن یہاں سب کچھ جل چکا ہے، ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے اب وہ لوگ اپنے پڑوسیوں سے بھیک مانگنے کو مجبور ہیں۔

این ڈی ٹی وی انڈیا کی نیوز کے مطابق ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، فساد میں گھر کا سارا ساز و سامان جل چکا ہے اور اب پاس میں پیسے بھی نہیں ہیں اور لاک ڈاؤن کے سبب یہ لوگ گھر سے باہر نکل بھی نہیں سکتے کہ محنت مزدوری کر کے کچھ حاصل کر سکیں، سو وہ بھوکے مر رہے ہیں اور پڑوسیوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو مجبور ہیں۔

انھیں متاثرین میں سے شیو وہار کی رہنے والی منیسہ نامی خاتون رو رو کر اپنا حال بیان کرتی ہیں کہ انھیں راحت کیمپ سے واپس گھر بھیج دیا گیا ہے، لیکن گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ منیسہ دو ہزار اور پانچ سو کے جلے ہوئے نوٹ دکھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ پیسے بیٹی کی شادی کے لیے جمع کیے تھے، لیکن دنگائیوں نے گھر بار سب جلا کر خاک کر دیا اور ہم ریلیف کیمپ کی پناہ لینے پر مجبور کر دیے گئے، لیکن اب کورونا وائرس کے سبب ہمیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اب ہم کریں تو کیا کریں؟ لاک ڈاؤن کے سبب گھر سے نکل نہیں سکتے اس لئے پیٹ پالنے کے لیے پڑوسیوں سے بھیک مانگنے کو مجبور ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ہمیں راشن مل بھی جائے تو پکائیں کیسے؟ ہمارے پاس نہ تو گیس ہے اور نہ تیل۔ پاس میں دہلی حکومت کا کوئی شیلٹر ہوم بھی نہیں ہے۔

یہ ہے دہلی فساد متاثرین کے حالات زندگی کی ایک معمولی سی جھلک۔ اللہ ان کے حال زار پر رحم فرمائے، غیب سے ان کی مدد کرے اور آس پاس رہنے والے لوگوں کو ان تک پہنچ کر ان کی مدد کرنے کی توفیق دے۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


قانون شکن یوگی اور ملا

  
ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ  : الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ 🕯
25 / مارچ ،2020 ،بدھ

یوگی اور مُلّا


آج رام للا کو اس کے نئے مندر میں شفٹ کرنے کے لیے  اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا پہنچے اور انھوں نے مندر کا شلانیاس رکھا، ساتھ ہی کئی سادھو سنتوں کی موجودگی میں پوجا بھی کی۔

یوگی لمبا سفر طے کرکے رام مندر کے شلانیاس کے لیے ایودھیا جا سکتے ہیں، کورونا وائرس کا خطرہ نہیں ہے، لیکن ہاۓ رے مسلمان کا ضعف اعتقاد کہ اسے مسجد جانے میں وائرس کا خطرہ ہے۔

یوگی کئی سادھو سنتوں کے ساتھ مندر میں پوجا کر سکتے ہیں، وائرس کا خطرہ نہیں ہے، لیکن افسوس کہ مسلمان کو مسجد جا کر اللہ کی عبادت کرنے میں وائرس کا خطرہ ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ گھر سے باہر نکلنے کا مطلب وائرس کو دعوت دینا ہے، لیکن پھر بھی رام مندر کے شلانیاس کا پروگرام ملتوی نہیں کیا جاتا ہے اور یوگی اپنے مذہب میں اتنے پختہ کہ بغیر کسی ڈر کے ایودھیا گیے، تھالی اٹھا کر اچھے خاصے لوگوں کے ساتھ آگے بڑھے اور مندر کا شلانیاس کیا اور سادھو سنتوں کے ساتھ پوجا بھی کی، جیسا کہ تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اللہ پر ایمان رکھنے والا مُلّا فتویٰ جاری کر رہا ہے کہ مسجد کی حاضری ساقط ہے، جماعت چھوڑی جا سکتی ہے، اور جمعہ ترک کیا جا سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی نظر بس مسجدوں ہی پر ہے اور اس کے شکار صرف مسلمان ہی ہونے والے ہیں۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
 اللہ خیر فرمائے اور مسلمانوں کو ہدایت دے۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


کورونا وائرس اور مسلمان

ابو رَزِین مولانا  محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ،مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
28 / رجب ، 24 / مارچ ، منگل 

کورونا وائرس اور مسلمان


اس وقت کورونا وائرس کو لے کر ہم کئی طرح کے مسلمان دیکھ رہے ہیں
*01* 
وہ جو ایسے حالات میں بھی اپنی دنیا میں مست ہیں، مزے کر رہے ہیں، پارٹی سلیبریٹ کر رہے ہیں، دعوتیں اڑا رہے ہیں، کرفیو جیسے حالات میں بھی گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے ہیں، نصیحت کرنے والے کا مذاق اڑا رہے ہیں، کل بھی خدا کو بھولے ہوئے تھے، آج بھی غافل ہیں، فتنے کے اس دور میں بھی آنکھیں کھولنا نہیں چاہتے ہیں۔ *وہ جنھیں یہ سب مذاق لگ رہا ہے، ہنس رہے ہیں، کارٹونس اور میمس بنا رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے لائک اور شییر حاصل کر رہے ہیں۔*


*02* 
وہ جن کی فکر کووڈ-19 کے حوالے سے ملحدوں کی سوچ سے کچھ کم نہیں، جن کے نظریات سے لگتا ہی نہیں کہ وہ اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان رکھتے ہیں۔ ڈرے، سہمے، گھبراۓ ہوئے لوگ، موت سے ڈرنے والے لوگ، اسلامی عقائد و احکام اور احادیث و آثار کی من گھڑت تاویل و توضیح کرنے والے لوگ، اپنے گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع لانے کے بجائے محض وہی کرنے والے لوگ جو دنیا انھیں بتا رہی ہے، جو ڈاکٹر انھیں بتا رہے ہیں، جو اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ انھیں بتا رہے ہیں کہ صابن سے ہاتھ دھوئیں، گھر سے نہ نکلیں، بھیڑ بھاڑ میں نہ جائیں، لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں، وغیرہ وغیرہ۔

بے چارے خوف کے ساۓ میں اس طرح جی رہے ہیں کہ انھیں جو بتایا جا رہا ہے سب کر رہے ہیں، مسجد میں جمعہ کی حاضری تک چھوڑ چکے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں کی حاضری کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں، مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے جانے والوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، حکومت کی سختی کا خوف دلا رہے ہیں، بیماری سے ڈرا رہے ہیں، غرض مختلف تدبیروں سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

*03* 
وہ جو مسلمان ہیں، مسلمانوں کی بہی خواہی کی باتیں بھی کرتے ہیں، لیکن اعتقاد، کردار اور مومنانہ جرات و عزم کے لحاظ سے نہایت کمزور ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے لیے عملی جد و جہد سے ہمیشہ دور رہتے ہیں، میدان میں اتر کر حالات سے لڑنا جنھوں نے سیکھا ہی نہیں ہے، جو سنگین حالات اور جوکھم کے مواقع پر ہر بار اپنے پاؤں پیچھے کھینچ لیتے ہیں اور حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کی جرات و ہمت سے عاری ہونے کے سبب ان کے معتقدات متزلزل ہو جاتے ہیں، نظریات کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ حالات کے مقابلے کی تدبیریں تلاش کریں، حالات سے منہ پھیرنے کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں اور بد قسمتی سے اگر وہ قوم کے قائد ہوں تو اپنی بزدلانہ مصلحت پسندیوں کو تقاضائے اسلام قرار دینے لگتے ہیں اور نصوص قرآن و حدیث کی من موافق تاویل و تشریح کر کے ساری قوم پر تھوپنے لگتے ہیں۔

اپنی فطرت کے عین مطابق اس وقت بھی وہ یہی کر رہے ہیں، گھروں میں بیٹھ کر قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، کسی بھی طرح کی آزمائش میں مبتلا نہیں ہونا چاہتے ہیں، لیکن قیادت کا بھرم رکھنا ہے اس لیے جس طرح خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، ساری قوم کو گھروں میں محصور ہو جانے کا مشورہ دے رہے ہیں، کھلے یا ڈھکے چھپے لفظوں میں مسلمانوں کو اللہ کے گھروں سے دور رہنے کی تعلیم دے رہے ہیں، اور اپنے اس نظریے کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں اور اسی کو عین اسلام قرار دے رہے ہیں۔

*04* 
وہ جو ڈرے ضرور ہیں، لیکن اس وبا سے نہیں ، اللہ سے ڈر گیے ہیں، جو اب اپنی خطاؤں پر نادم و پشیماں ہیں اور اللہ کی طرف رجوع لے آۓ ہیں، جو اس فتنے سے بھاگ کر اللہ کی پناہ ڈھونڈ رہے ہیں، جو ہر نا گوار صورت حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہو جاتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں، *جو اس وبا کو اپنے لیے اللہ کی آزمائش جانتے ہیں اور اپنے اسی اعتقاد پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، وہی بیماری کا خالق ہے، وہی شافی و کافی ہے، اس نے مسببات کو اسباب سے جوڑا ضرور ہے، لیکن چاہے تو آگ سے آب آب کر دے اور پانی سے آگ آگ، نازک گلے پر تیز چھری چلتی رہے مگر ایک رویاں بھی متاثر نہ ہو، سمندر کے پانی کو دروازے کے دو پاٹ کی طرح کھڑا کر کے بیچ سمندر میں راستہ پیدا کر دے، ایک کو اسی راستے سے بچاۓ تو دوسرے کو اسی سے ہلاک کر دے، جو یہ مانتے ہیں کہ ہر بلا و مصیبت ہماری بد عملی کا نتیجہ ہے اور کوئی بھی مصیبت اللہ کے چاہے بغیر کسی کو چھو بھی نہیں سکتی ہے،* جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ کی آزمائش سے گزرے بغیر کوئی آدمی مومن ہو ہی نہیں سکتا، جو اللہ کی آزمائش سے گزرتے ہیں تو اللہ پر ان کا ایمان اور مضبوط ہو جاتا ہے، جو رونگٹے کھڑے کر دینے والے اور بدن کا ریشہ ریشہ ہلا دینے والے خوف ناک حالات میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور کوئی ڈراۓ تو کہتے ہیں کہ یہ تو وہی صورت حال ہے جس کا ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا ہے۔

اس وقت بھی وہ راسخ الاعتقاد ہیں، حالات کی نزاکت نے ان کے معتقدات متزلزل نہیں کیے ہیں، وہ احتیاط برت رہے، مختلف تدابیر اختیار کر رہے ہیں، گھر پر رہنے ہی کو ترجیح دے رہے ہیں، لیکن ضرورت پیش آنے پر باہر بھی جا رہے ہیں، نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد بھی جا رہے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ جا رہے ہیں کہ بے مشیت الٰہی ہمیں کوئی آفت لاحق نہیں ہو سکتی ہے، اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر ہم وبا کے شکار اور موت سے ہم کنار بھی ہوۓ تو اسی اعتقاد کے ساتھ کہ کسی سے ملنے، مصافحہ کرنے کی وجہ سے بیماری ہم تک متعدی نہیں ہوئی ہے، بلکہ اللہ نے چاہا تو بیماری لاحق اور موت نازل ہوئی ہے۔

پہلی قسم کے مسلمان :- سخت غفلت میں ہیں، عذاب الہی کو دعوت دے رہے ہیں، خود کو ہلاکت کے منہ میں لے جا رہے ہیں اور اپنی غفلتوں کے سبب دوسروں کے لیے بھی وبال جان بن رہے ہیں۔ اللہ انھیں ہدایت دے، ان کی آنکھیں کھول دے اور ان کے سبب اوروں کو اپنے عذاب میں مبتلا نہ کرے۔


دوسری قسم کے مسلمان :- وہ ہیں جو صرف زندہ رہنا چاہتے ہیں، جو صرف اپنی زندگی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس وبا کو بھیج کر مسلمانوں کی صفوں میں موجود ایسے دنیا داروں کا راز فاش کر دیا اور ہم نے پہچان لیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو زندہ رہنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں، اپنا ایمان بھی بیچ سکتے ہیں، قوم کا سودا بھی کر سکتے ہیں، عبادت گاہوں میں تالے بھی ڈلوا سکتے ہیں، مسلمانوں کو قید بھی کروا سکتے ہیں، ان کا خون بھی کروا سکتے ہیں، بلکہ اپنے ہاتھوں ہی قتل کر سکتے ہیں۔ جینا جو ہے انھیں، دنیا میں رہنا جو ہے انھیں۔ *اللہ ایسے لوگوں کو کبھی سرخ رو نہ کرے، ان کے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو اپنی صفوں میں موجود ایسے لوگوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔


تیسری قسم کے مسلمانوں :- کے لیے بس اتنا کہوں گا  کہ اللہ رب العزت ہمیں ایسے لوگوں کی دینی، ملی اور سیاسی قیادت سے محفوظ رکھے، قوم مسلم کو چاہیے کہ ایسوں کو قیادت جیسا عظیم منصب دے کر خود کو آزمائش میں مبتلا نہ کریں۔

چوتھی قسم کے مسلمان :- ہی در حقیقت سچے مسلمان ہیں۔ *اللہ سے دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بھی انھیں کے زمرے میں شامل فرمائے اور ان کو تمام مسلمانوں کی قیادت عطا فرمائے اور ان کی قیادت میں امت مسلمہ کو سرخ رو فرمائے۔ آمین بجاه النبي الأمين صلى الله عليه و على آله و صحبه أجمعين.

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
  1. Click & Visit Our Team 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹



Corona Virus And Government


✍️ तहरीर : अब्बू रज़ीन मुहम्मद हारून मिस्बाही फ़तेहपूरी
🕯उस्ताज़ अलजामिअतुल अशरफिआ मुबारकपूर ,आज़मगढ़🕯
22 /मार्च 2020 ،इतवार

कोरोना वाइरस के हवाले से हकूमत-ए-हिन्द को चंद मुख़लिसाना नसीहतें


आलमी वबा कोरोना वाइरस अब हमारे मुल्क में भी पैर पसार रहा है, ख़बरों के मुताबिक़ अब ऐसे लोग भी इस के शिकार होने लगे हैं जिन्होंने हालिया अय्याम में बैरून-ए-मलिक का कोई सफ़र नहीं किया है

ऐसे हालात में हकूमत-ए-हिन्द का फ़िक्रमंद होना और इस वबा की रोक-थाम के लिए ज़रूरी तदाबीर इख़तियार करना एक फ़ित्री अमर है। हुकूमत फ़िक्रमंद भी है, अपने तौर पर मुख़्तलिफ़ तदाबीर इख़तियार भी कर रही है और इस हवाले से हिन्दुस्तानी शहरीयों में बेदारी भी ला रही है जो वाक़ई एक ख़ुश आइंद क़दम है

हमसे पहले कई ममालिक उस के शिकार हो चुके हैं और इस की रोक-थाम के लिए पूरी कोशिश कर रहे हैं। मज़ीद ये कि दुनिया इस तरह की वबाओं से पहले भी दो-चार हो चुकी है इसलिए हमें ये देखना चाहिए कि इस वबा के शिकार दीगर ममालिक क्या तदाबीर इख़तियार कर रहे हैं और उनकी कौन कौन सी कोशिशें कारगर साबित हो रही हैं। साथ ही इस तरह की जिन वबाओं से दुनिया पहले दो-चार हो चुकी है उन पर क़ाबू पाने के लिए क्या-क्या कोशिशें की गईं और कौन सी तदबीरें कारगर साबित हुईं उन पर नज़र करना भी ज़रूरी है ताकि उस को रोना वाइरस से निमटने के लिए उन कोशिशों और तदाबीर को ब-रू-ए-कार लाया जाये

*इस वक़्त हमारी नज़र में कुछ ऐसी तदाबीर हैं जिन्हें अगर हकूमत-ए-हिन्द अपनाती है तो इंशा-ए-अल्लाह ख़ातिर-ख़्वाह फ़ायदा नज़र आएगा, और इस वबा को रोकने में बड़ी हद तक कामयाबी हासिल होगी।*

*01:* कहते हैं कि आसमानी बुलाऐं हमारी करतूतों का नतीजा होती हैं और मज़लूमों की आह का असर। इसलिए अगर हम वाक़ई किसी आसमानी बला का ईलाज ढूंढ रहे हैं और अपनी कोशिशों में सच्चे हैं तो हमें सबसे पहले अपने आमाल का जायज़ा लेना चाहिए और उन मज़लूमीन तक पहुंचना चाहिए जिन पर हमारे हाथों या हमारी कोताहियों की वजह से ज़्यादती हुई है और उनसे अपनी ग़लतीयों और कोताहियों की माफ़ी मांगनी चाहिए, उन पर की गई ज़्यादतियों का मुदावा करना चाहिए, उनके आँसू पोंछना चाहिए, उनको ख़ुश करना चाहिए और उनकी ज़रूरतें पूरी करनी चाहिऐं ताकि उनकी आह के ज़ेर-ए-असर जो बला आई है वो उनकी ख़ुशी के कलिमात से दूर हो सके

*मौजूदा हुकूमत को चाहिए कि इस के दौर में होने वाले मुख़्तलिफ़ किस्म के फ़सादाद में ज़ुलम-ओ-ज़्यादती के शिकार लोगों, घरानों और ख़ानदानों को तलाश करे और फ़ौरी तौर पर उनसे माफ़ी मांगे, उनकी ज़रूरत की चीज़ें उन्हें मुहय्या करे और उनके लिए एक बेहतर और ख़ुश-हाल ज़िंदगी का इंतिज़ाम करे। खासतौर से दिल्ली फ़साद मुतास्सिरीन की मदद करे और उनके रहने और खाने का इंतिज़ाम करे, जेलों में बंद बेक़सूर लोगों को फोरा रिहा करे।*

*02:* मुल्क के ग़रीब तबक़े पर अपनी तवज्जा मर्कूज़ करे, मज़दूरी करने वालों पर ख़ास तवज्जा दे और जब तक काम काज बंद रहे उनके खाने पीने का इंतिज़ाम करे

*03:* मुल्क में फैल रही नफ़रत की सियासत पर लगाम लगाए, मज़हब के नाम पर दंगा फ़साद फैलाने वालों पर अब तो नकेल कसे। *कितने अफ़सोस की बात है कि ऐसे नाज़ुक हालात में भी कुछ लोग नफ़रत की सियासत कर रहे हैं, आज ही शाहीन बाग़ में कुछ लोगों ने प्रोटेस्ट करने वालों से मार पीट की, यहां तक कि पेट्रोल बम तक फेंका।*

आज ज़रूरत इस बात की है कि लोगों को प्यार दिया जाये, एक दूसरे को मदद फ़राहम की जाये, एक दूसरे को सहारा दिया जाये और मज़हब के नाम पर दिलों में पल रही अदावतों का ख़ातमा किया जाये ताकि इस अज़ाब इलाही से बचा जा सके। 

*हुकूमत को चाहिए कि लोगों तक ये पैग़ाम ज़रूर पहुंचाए कि वो अपने दिलों से नफ़रत के जज़बात निकाल कर दिलों को एक दूसरे के तईं मुहब्बत और दोस्ती के जज़बात से लबरेज़ करें और बिला तफ़रीक़ मज़हब-ओ-मिल्लत एक दूसरे का सहारा बनें।*

*04:* ख़बरें आ रही हैं कि महाराष्ट्र में कई इमामों और मसाजिद के अरकान कमेटी को गिरफ़्तार कर लिया गया है और उन पर एफ़ आई आर दर्ज की गई है, साथ ही नमाज़ियों को मस्जिद में नमाज़ पढ़ने से रोका जा रहा है। *ख़ुदा के लिए ऐसा ना करें। इन इमामों और उन नमाज़ियों की दुआओं के ज़ेर-ए-असर ये बला टाली जा सकती है। ऐसे नाज़ुक हालात में इबादत-गाहों को आबाद किया जाता है ना कि वीरान। इसलिए जो लोग मसाजिद में जा कर इबादत करना चाहते हैं उन्हें रोका ना जाये, बस उन्हें एहतियाती तदाबीर इख़तियार करने की तलक़ीन की जाय और इस अहम काम के लिए मसाजिद के अइम्मा से काम लिया जाय।*

मसाजिद के इमामों की लोग क़दर करते हैं, उनकी बातों पर तवज्जा देते हैं और अमल की कोशिश करते हैं, इसलिए इस वबा की रोक-थाम के सिलसिले में ये इमाम बेहतर कारकर्दगी दिखा सकते हैं और उनसे अच्छी ख़ासी मदद ली जा सकती है। और ये तभी मुम्किन होगा जब लोग मस्जिद जाएं, इसलिए लोगों को मसाजिद की हाज़िरी से ना रोकना ही बेहतर होगा

*हमने जो बातें बयान की हैं माज़ी की तारीख़ भी उनकी तसदीक़ करती है। इससे पहले भी मोहलिक वबाएं नाज़िल हुई हैं लेकिन कभी ऐसा नहीं हुआ है कि मस्जिदों में ताले लगा दिए गए हो। इसलिए ऐसे हालात में सऊदी हुकूमत या किसी अरब कन्ट्री के तरीका-ए-कार को हमारे लिए रोल मॉडल नहीं बनाया जा सकता है। ये उनका अपना पर्सनल तरीका-ए-कार है और हम जो बता रहे हैं वो तारीख़ की रोशनी में बता रहे हैं।*

तारीख़ हमें ये भी बताती है कि इस तरह की बलाऐं उस वक़्त दूर हुईं जब लोगों ने अपने घरों को छोड़कर मस्जिदों की पनाह ले ली और अल्लाह की तरफ़ रुजू ले आए। इस लिहाज़ से भी लोगों को इबादत-गाहों से दूर करना मुनासिब इक़दाम नहीं हो सकता है

तारीख़ हमें ये भी बताती है कि ऐसे फ़ित्नों के दौर में लोगों को राहत उसी वक़्त मिली जब मज़लूमों की दाद रसी की गई, भूकों को खाना खिलाया गया, बे-सहारों को सहारा दिया गया और ज़रूरतमंदों की ज़रूरत पूरी की गई, इसलिए ज़रूरत इस बात की है कि मुल्क के हर दुखी इन्सान का दुख दूर किया जाये और परेशान हाल की परेशानी का मुदावा किया जाये

अगर हम ऐसा करते हैं तो साबित हो जाएगा कि हम अपनी कोशिशों में सच्चे हैं और फिर इंशा-ए-अल्लाह आसमान से अल्लाह की नुसरत नाज़िल होगी, दुनिया अमन-ओ-अमान महसूस करेगी और इस हलाकत ख़ेज़ वबा से सबको नेजात हासिल होगी, इन शा-अल्लाह। 


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
आदमी  है  तो  आदमी ही रह
आदमियत को दाग़दार न कर
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

اردو میں پڑھنے کے لیے اس 👇 پر کلک کریں
کورونا وائرس 



کورونا وائرس کو لیکر حکومت ہند کو نصیحتیں

ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری✍️
🕯استاذ الجامعۃ الاشرفیہ،مبارک پور ،اعظم گڑھ 🕯
22 /مارچ ،2020 ،اتوار 

کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت ہند کو چند مخلصانہ نصیحت


عالمی وبا کورونا وائرس اب ہمارے ملک میں بھی پیر پسار رہا ہے، خبروں کے مطابق اب ایسے لوگ بھی اس کے شکار ہونے لگے ہیں جنھوں نے حالیہ ایام میں بیرون ملک کا کوئی سفر نہیں کیا ہے۔
ایسے حالات میں حکومت ہند کا فکر مند ہونا اور اس وبا کی روک تھام کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا ایک فطری امر ہے۔ حکومت فکر مند بھی ہے، اپنے طور پر مختلف تدابیر اختیار بھی کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہندوستانی شہریوں میں بیداری بھی لا رہی ہے جو واقعی ایک خوش آئند قدم ہے۔

ہم سے پہلے کئی ممالک اس کے شکار ہو چکے ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ دنیا اس طرح کی وباؤں سے پہلے بھی دوچار ہو چکی ہے اس لیے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وبا کے شکار دیگر ممالک کیا تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور ان کی کون کون سی کوششیں کار گر ثابت ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی اس طرح کی جن وباؤں سے دنیا پہلے دوچار ہو چکی ہے ان پر قابو پانے کے لیے کیا کیا کوششیں کی گئیں اور کون سی تدبیریں کار گر ثابت ہوئیں ان پر نظر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ان کوششوں اور تدابیر کو بروئے کار لایا جائے۔

اس وقت ہماری نظر میں کچھ ایسی تدابیر ہیں جنھیں اگر حکومت ہند اپناتی ہے تو ان شاء اللہ خاطر خواہ فائدہ نظر آئے گا، اور اس وبا کو روکنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوگی۔

*01* 
کہتے ہیں کہ آسمانی بلائیں ہماری کرتوتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں اور مظلوموں کی آہ کا اثر۔ اس لیے اگر ہم واقعی کسی آسمانی بلا کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں اور اپنی کوششوں میں سچے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور ان مظلومین تک پہنچنا چاہیے جن پر ہمارے ہاتھوں یا ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے زیادتی ہوئی ہے اور ان سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگنی چاہیے، ان پر کی گئی زیادتیوں کا مداوا کرنا چاہیے، ان کے آنسو پونچھنا چاہیے، ان کو خوش کرنا چاہیے اور ان کی ضرورتیں پوری کرنی چاہئیں تاکہ ان کی آہ کے زیر اثر جو بلا آئی ہے وہ ان کی خوشی کے کلمات سے دور ہو سکے۔

موجودہ حکومت کو چاہیے کہ اس کے دور میں ہونے والے مختلف قسم کے فسادات میں ظلم و زیادتی کے شکار لوگوں، گھرانوں اور خاندانوں کو تلاش کرے اور فوری طور پر ان سے معافی مانگے، ان کی ضرورت کی چیزیں انھیں مہیا کرے اور ان کے لیے ایک بہتر اور خوش حال زندگی کا انتظام کرے۔ خاص طور سے دہلی فساد متاثرین کی مدد کرے اور ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کرے، جیلوں میں بند بے قصور لوگوں کو فورا رہا کرے۔

*02*
 ملک کے غریب طبقے پر اپنی توجہ مرکوز کرے، مزدوری کرنے والوں پر خاص توجہ دے اور جب تک کام کاج بند رہے ان کے کھانے پینے کا انتظام کرے۔

*03*
 ملک میں پھیل رہی نفرت کی سیاست پر لگام لگاۓ، مذہب کے نام پر دنگا فساد پھیلانے والوں پر اب تو نکیل کسے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایسے نازک حالات میں بھی کچھ لوگ نفرت کی سیاست کر رہے ہیں، آج ہی شاہین باغ میں کچھ لوگوں نے پروٹیسٹ کرنے والوں سے مار پیٹ کی یہاں تک کہ پیٹرول بم تک پھینکا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو پیار دیا جائے، ایک دوسرے کو مدد فراہم کی جائے، ایک دوسرے کو سہارا دیا جائے اور مذہب کے نام پر دلوں میں پل رہی عداوتوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ اس عذاب الہی سے بچا جا سکے۔

حکومت کو چاہیے کہ لوگوں تک یہ پیغام ضرور پہنچاۓ کہ وہ اپنے دلوں سے نفرت کے جذبات نکال کر دلوں کو ایک دوسرے کے تئیں محبت اور دوستی کے جذبات سے لبریز کریں اور بلا تفریق مذہب و ملت ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔

*04*
 خبریں آ رہی ہیں کہ مہاراشٹر میں کئی اماموں اور مساجد کے ارکان کمیٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، ساتھ ہی نمازیوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔ خدا کے لیے ایسا نہ کریں۔ ان اماموں اور ان نمازیوں کی دعاؤں کے زیر اثر یہ بلا ٹالی جا سکتی ہے۔ ایسے نازک حالات میں عبادت گاہوں کو آباد کیا جاتا ہے نہ کہ ویران۔ اس لیے جو لوگ مساجد میں جا کر عبادت کرنا چاہتے ہیں انھیں روکا نہ جائے، بس انھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جاۓ اور اس اہم کام کے لیے مساجد کے ائمہ سے کام لیا جاۓ۔

مساجد کے اماموں کی لوگ قدر کرتے ہیں، ان کی باتوں پر توجہ دیتے ہیں اور عمل کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے اس وبا کی روک تھام کے سلسلے میں یہ امام بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور ان سے اچھی خاصی مدد لی جا سکتی ہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہو گا جب لوگ مسجد جائیں، اس لیے لوگوں کو مساجد کی حاضری سے نہ روکنا ہی بہتر ہوگا۔

ہم نے جو باتیں بیان کی ہیں ماضی کی تاریخ بھی ان کی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے پہلے بھی مہلک وبائیں نازل ہوئی ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ مسجدوں میں تالے لگا دیے گئے ہوں۔ اس لیے ایسے حالات میں سعودی حکومت یا کسی عرب کنٹری کے طریقہ کار کو ہمارے لیے رول ماڈل نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ان کا اپنا پرسنل طریقہ کار ہے اور ہم جو بتا رہے ہیں وہ تاریخ کی روشنی میں بتا رہے ہیں۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس طرح کی بلائیں اس وقت دور ہوئیں جب لوگوں نے اپنے گھروں کو چھوڑ کر مسجدوں کی پناہ لے لی اور اللہ کی طرف رجوع لے آۓ۔ اس لحاظ سے بھی لوگوں کو عبادت گاہوں سے دور کرنا مناسب اقدام نہیں ہو سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسے فتنوں کے دور میں لوگوں کو راحت اسی وقت ملی جب مظلوموں کی داد رسی کی گئی، بھوکوں کو کھانا کھلایا گیا، بے سہاروں کو سہارا دیا گیا اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کی گئی، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے ہر دکھی انسان کا دکھ دور کیا جائے اور پریشان حال کی پریشانی کا مداوا کیا جائے۔

اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ ہم اپنی کوششوں میں سچے ہیں اور پھر ان شاء اللہ آسمان سے اللہ کی نصرت نازل ہوگی، دنیا امن و امان محسوس کرے گی اور اس ہلاکت خیز وبا سے سب کو نجات حاصل ہو گی، إن شاء الله۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
               آدمی  ہے  تو  آدمی  ہی  رہ  
             آدمیت  کو  داغ  دار  نہ  کر  
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ہندی میں پڑھنے کے لیے اس👇 پر دبائیں
Corona Virus news


Friday, 24 April 2020

اردو زبان اور بنیادی اسلامی تعلیم ↙️قسط دوم


ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
08 / مارچ ،2020 ، اتوار 

 کیا آپ کے بچوں کے اسکول میں اردو زبان اور بنیادی اسلامی تعلیم کا بھی بندوبست ہے؟

(دوسری قسط)


نوٹ : اس پیغام کے ساتھ کہ بچے وہاں پڑھائیں جہاں اردو زبان اور اسلامی تعلیم کا بھی انتظام ہو

 اور اگر آپ کی آبادی میں واقعتاً کوئی ایسا اسکول نہیں ہے جہاں اردو زبان اور بنیادی اسلامی تعلیم کا بندوبست ہو۔ تو ایسی صورت حال میں بھی آپ کو یہی چاہیے کہ اپنے بچوں کا ایڈمیشن کسی مشنری اسکول یا ششو مندر میں نہ کرائیں بلکہ کسی ایسے اسکول میں ان کا داخلہ کرائیں جہاں 'عیسائیت' یا 'ہندتوا' کی تبلیغ نہ ہوتی ہو، اور اسکول کے منتظمین سے رابطہ کر کے ان سے گزارش کریں بلکہ جہاں تک ہو سکے ان پر دباؤ ڈالیں کہ ہمارے بچوں کے لیے اردو زبان اور دینی تعلیم کے لیے الگ سے کوئی بندوبست کریں۔ اگر ایسا ہو جائے تو بہت بہتر، ورنہ خود آپ کو چاہیے کہ ان کے لیے اردو زبان اور اسلامی تعلیم کے لیے الگ سے کوئی بندوبست کریں، ٹیوشن لگائیں، یا پاس کی مسجد یا مدرسے میں بھیج کر انھیں اردو زبان سکھائیں اور اسلامی تعلیم دلوائیں۔

آپ آج اپنے معاشرے کے مسلم افراد کا جائزہ لیں، بوڑھوں اور عمر رسیدہ افراد کو تو چھوڑ دیں، آپ کو  نوجوانوں کی ایک بھاری تعداد ایسی ملے گی جو اردو زبان سے نا بلد ہے۔ یہ نوجوان اردو بول اور سمجھ تو لیتے ہیں لیکن انھیں اردو پڑھنا، لکھنا نہیں آتا ہے۔ اردو زبان سے نا آشنائی کی وجہ سے وہ خواہش کے باوجود دینی معلومات سے حسبِ ضرورت بہرہ ور نہیں ہو پاتے ہیں اور یک گونہ احساس کمتری کے بھی شکار رہتے ہیں اور اپنی شخصیت کے اس نقص کے لیے زندگی بھر اپنے ماں باپ یا سر پرست کو مورد الزام گردانتے ہیں۔ 

آج انٹرنیٹ کا دور ہے، اسلامی کتابیں نیٹ پر اپلوڈ ہیں، گوگل پر سرچ کر کے ہر طرح کی جان کاری حاصل کی جا رہی ہے، اہلِ علم سوشل میڈیا کے ذریعے دین کی خدمت کر رہے ہیں اور لوگوں کو دینی تعلیمات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اور یہ سارا کام اردو، عربی، انگریزی وغیرہ مختلف زبانوں میں ہو رہا ہے۔ 

اسلامی معلومات کا سب سے بڑا زخیرہ عربی زبان میں ہے، خود قرآن و احادیث کی زبان عربی ہے۔ لیکن یہ ہندوستانی مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ ان کے معاشرے میں عربی زبان کی تعلیم و تعلم کا نظم تقریباً مفقود ہو چکا ہے۔ اس وقت صرف دینی مدارس اور یونیورسٹیز ہی ہیں جہاں اس کا انتظام ہے لیکن وہاں بھی عربی پڑھنے اور سیکھنے والوں کی تعداد محدود ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں میں اکثریت ہندی لکھنے اور پڑھنے والوں کی ہے، لیکن ہندی زبان میں اسلامی معلومات کا زخیرہ بہت محدود ہے جو مسلمانوں کو اسلامی معلومات سے روشناس کرانے کے سلسلے میں کافی نہیں ہے۔ کچھ یہی حال انگریزی زبان کا بھی ہے۔ اور پھر ہندوستانی مسلمانوں میں انگریزی پڑھنے، لکھنے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔

اب رہ جاتی ہے اردو زبان جو ہندوستانی مسلمانوں کی وہ اکیلی زبان ہے جسے وہ سمجھ بھی لیتے ہیں اور بول بھی لیتے ہیں، بس خامی یہ ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں جو بول اور سمجھ لینے کے باوجود لکھنے، پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے اندر لکھنے، پڑھنے کی صلاحیت پیدا کر دی جائے تاکہ وہ اس زبان کو دینی معلومات کے حصول کا ذریعہ بنا سکیں، اردو زبان میں لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کر سکیں، سوشل میڈیا میں اپلوڈ ہونے والی اردو کی تحریروں کو پڑھ اور سمجھ سکیں اور اپنی معلومات دوسروں تک پہنچانے اور تبلیغ دین کے لیے اس زبان کو وسیلہ بنا سکیں، غرض ہر طرح اس زبان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مسلم معاشرے کا ایک زبردست افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں آج بھی بہت سی بستیاں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کے اپنے اسکول یا تو نہیں ہیں یا ہیں تو لیکن بہت کم ہیں جو مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں ہی کے ایسے اسکول بھی ہیں جہاں دینی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ جب کہ ان کی غیرت ایمانی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے اسکولوں میں بنیادی اسلامی تعلیم کا بندوبست ضرور کرتے اور اسلامی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اپنی فرض شناسی کا ثبوت پیش کرتے، لیکن افسوس کہ انھوں نے ایسا نہ کیا۔

ایسے مسلمان بھائیوں سے ہماری اپیل ہے کہ ان سے جو غفلت ہوئی ہے اس کا اب مداوا کر لیں اور اپنے اسکولوں میں اردو زبان اور دینی تعلیم کا شعبہ بھی قائم کریں۔ ساتھ ہی ہر بستی اور ہر علاقے کے صاحب استطاعت مسلمانوں اور ملی تنظیموں سے گزارش ہے کہ ہر بستی میں ایسے اسکول قائم کریں اور کافی مقدار میں قائم کریں اور اردو زبان اور اسلامی تعلیم کا شعبہ ضرور رکھیں۔

 ہم آگے چل کر اسلامی تعلیمات پر مشتمل اسکول کالج کی ضرورت و اہمیت پر تفصیلی گفتگو کریں گے إن شاء الله۔

تو کیا سوچا آپ نے؟ ہماری باتوں پر ایک بار سچے مَن اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کریں، ضرور آپ ہماری باتوں کی تصدیق کریں گے اور اسی نتیجے پر پہنچیں گے جو ہم نے بیان کیا ہے۔

تو پھر دیر کس بات کی؟ آپ کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے، اس لیے وقت نکال کر غور کر لیں اور اطمینان ہو جانے پر اپنے آس پاس یا اپنی بستی میں واقع اسلامی تعلیم کا شعبہ رکھنے والے کسی اسکول سے رابطہ کریں اور اپنے بچوں کا داخلہ وہیں کرا دیں، اللہ آپ کو آپ کے حسنِ نیت کا بہتر صلہ ضرور عطا کرے گا، ارشادِ نبوی ہے : " أنا عند ظن عبدي بي "
یعنی اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے کا میرے تعلق سے جیسا خیال ہوتا ہے بندے کے ساتھ میرا سلوک بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تیسری قسط پڑھنے کے لیے لیے لفظ ⬇️جاری⬇️ پر دبائیں
( جاری............)
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹



اردو زبان اور بنیادی اسلامی تعلیم ↙️قسط اول

ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
04/ مارچ ،2020 ، بدھ

 کیا آپ کے بچوں کے اسکول میں اردو زبان اور بنیادی اسلامی تعلیم کا بھی بندوبست ہے؟ 

 (پہلی قسط)


نوٹ : اس پیغام کے ساتھ کہ بچے وہاں پڑھائیں جہاں اردو زبان اور اسلامی تعلیم کا بھی انتظام ہو


اسکولوں میں پھر بہار کا موسم آیا ہے، ایڈمیشن اوپن ہو چکے ہیں اور کہیں ہونے والے ہیں، اور نئے تعلیمی سال کی کے احساس ہی سے بچوں کے چہرے کھل اٹھے ہیں۔ کتنا خوشنما ہوتا ہے وہ منظر جب گلیوں، راستوں اور سڑکوں پر ہنستے مسکراتے اسکولی بچوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں ،اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے بچوں سے بھرے ہوئے رکشے، اسکولی بسیں اور لاریاں شاہراہوں پر دوڑتی ہیں اور اسکول کی فضا ان کی شوخیوں، پُر مسرت صداؤں اور قہقہوں سے گونجتی ہے۔

کیا آپ کے بھی بچے ہیں؟ یا آپ کے گھرانے میں ایسے بچے ہیں جو اب اسکول جانے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں یا پہلے ہی سے پڑھ رہے ہیں؟ 

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر آپ کو کسی اسکول میں ان کے ایڈمیشن کی فکر کرنی چاہیے اور اپنے گھر کے آس پاس واقع کسی بہتر اسکول کے بارے غور کرنا چاہیے۔

لیکن ذرا ٹھہریں اور یہ سوچیں کہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے آپ کا معیار کیا ہے؟ اور اس پر بھی غور کریں یا کسی سے معلوم کریں کہ  ایک مسلمان کی تعلیم کے حوالے سے اسلام کا معیارِ تعلیم کیا ہے؟ 

چلیے ہم ہی بتا دیتے ہیں کہ ایک مسلمان کی تعلیم کے حوالے سے اسلام کا معیارِ تعلیم کیا ہے؟ 

تعلیم کے حوالے سے اسلام یہ کہتا ہے کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد کو مذہبِ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آراستہ، اور اسلامی عقائد و معمولات اور ضروری احکام و مسائل سے آگاہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی اسے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس زمانے میں رائج علوم کی ضرورت بھر معلومات بھی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے زمانے کے تقاضوں سے لیس ہو، اور ترقی و پیش رفت میں دیگر معاشرے کے افراد سے پیچھے نہ رہے۔

بلا شبہ اسلام کے بنائے ہوئے معیارِ تعلیم ہی میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ تجربات شاہد ہیں کہ جن ماں باپ نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اسلامی معیارِ تعلیم کو ترجیح دی ہے اور اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ایسے اسکولوں کا انتخاب کیا ہے جہاں اسلام کے معیارِ تعلیم کے مطابق بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے وہ ماں باپ اپنے اس انتخاب میں کبھی غلط ثابت نہیں ہوۓ ہیں اور ان کے بچے دنیا میں دوسروں سے کہیں زیادہ نمایاں، ممتاز اور کامیاب رہے ہیں، اور کل آخرت میں بھی إن شاء الله سرخ رو رہیں گے۔ ساتھ ہی ان کے بچے خود ان کے لیے بھی سراپا رحمت ثابت ہوۓ ہیں۔

اگر آپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوں اور آپ کے احسان شناس، اطاعت شعار اور خدمت گزار رہیں تو آپ کو بھی ان کی تعلیم کے حوالے سے اسلام کا معیار تعلیم اپنانا چاہیے اور ان کے لیے کسی ایسے اسکول کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں کا معیارِ تعلیم اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

اگر آپ نے اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں اسلامی تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا اور ان کی تعلیم کے لیے کسی غلط اسکول کا انتخاب کر لیا، جس کے نتیجے میں خدا نہ خواستہ وہ دین سے دور یا بے زار ہو گیے تو اس کے ذمے دار خود آپ ہوں گے اور اللہ کے غضب کے حق دار بھی۔

آپ ہندوستانی ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان میں رائج زبانوں میں 'اردو زبان' واحد ایسی زبان ہے کہ دینی معلومات پر مشتمل کتابوں کا زیادہ تر زخیرہ اسی زبان میں ہے، اس لیے دینی معلومات سے آگہی کے لیے اردو زبان کا سیکھنا ہر ہندوستانی مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آپ کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کس طرح کے اسکول کا انتخاب کرنا چاہیے۔ لہذا اپنے آس پاس واقع کسی ایسے ہی اسکول کا انتخاب کریں جہاں اردو زبان ضرور سکھائی جاتی ہو۔ ساتھ ہی وہاں دین کی بنیادی ضروری تعلیم بھی دی جاتی ہو۔

اب آپ اپنی آبادی کا جائزہ لیں اور پتہ لگائیں کہ آپ کی آبادی میں ایسا اسکول کہاں ہے؟

 اگر آپ کو کوئی ایسا اسکول مل جائے تو آپ کے بچوں کے لیے اس سے بہتر کوئی اور اسکول نہیں ہو سکتا ہے۔ لہذا اپنے بچوں کا ایڈمیشن وہیں کرائیں۔ 

ہم نے بہت سے ایسے مسلمان دیکھے ہیں جو اپنے بچوں کے دنیاوی لحاظ سے روشن مستقبل کے لیے ان کی دینی تربیت کے معاملے میں سخت غفلت برتتے ہیں، انھیں دینی تعلیم سے دور رکھتے ہیں اور ان کا داخلہ عیسائیت کی تبلیغ کے پیش نظر چلاۓ جا رہے کسی 'مشنری اسکول' میں کرا دیتے ہیں یا ہندو ازم کو فروغ دینے کے پیش نظر چلاۓ جانے والے 'ششو مندر ' میں ان کا ایڈمیشن کرا دیتے ہیں۔ اور پھر اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ان بچوں کا مستقبل دنیاوی لحاظ سے روشن ہو یا نہ ہو لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ ان کے وہ بچے اپنے مذہب سے دور یا بے زار ضرورہو جاتے ہیں۔

اتنا ضرور یاد رکھیں کہ مشنریوں اور ششو مندروں کے منتظمین لوگوں کو اپنے اسکولوں کی طرف راغب کرنے کے لیے بہت ہوّا کھڑا کرتے ہیں اور اپنے ان اسکولوں میں بہتر تعلیم دیے جانے کا اتنا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب رکھنے والے بہت سے مسلمان ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو ان ذبح خانوں میں ڈال دیتے ہیں جہاں مذہبی اعتبار سے ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔

اور اگر مان بھی لیا جائے کہ مسلمانوں کے اسکولوں کی بنسبت ان مشنریوں اور ششو مندروں میں بہتر تعلیم دی جاتی ہے جو ان کے روشن مستقبل کی ضامن بھی ہے تو کیا آپ ایسی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کا دین و مذہب لُٹ جانا گوارا کر لیں گے؟ اگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ کا رویہ یہی رہتا ہے تو پھر اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ کا مطمحِ نظر صرف دنیاوی ترقی اور خوش حالی بن کر رہ گیا ہے ، چاہے اس کے بدلے آپ کے بچوں کے دین وایمان کی متاع ہی کیوں نہ لٹ جائے، جب کہ ایک حقیقی مسلمان کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ مٹادینے پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن متاع ایمان کا سودا کسی بھی قیمت پر نہیں کرتا ہے۔

 'مشنری اسکول' یا 'ششو مندر' میں بچوں کو پڑھانے کا انجام کیا ہوتا ہے اس پر ہم آگے چل کر تفصیلی گفتگو کریں گے إن شاء الله۔ 

اور پھر کیا اسلامی تعلیم کے حامل اسکولوں میں ( اگرچہ وہاں کی تعلیم نسبتاً کمزور ہو ) پڑھنے والے بچے سب ناکام ہی ہوتے ہیں، سب کا مستقبل تاریک ہی ہوتا ہے؟ ایسا نہیں ہے اور ہرگز نہیں ہے۔ بچوں کی کامیابی اور ناکامی کا بڑا مدار ان کی اپنی محنت اور گھر والوں کی توجہ اور تربیت بھی ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں پر توجہ دیں گے اور ان پر نظر رکھیں گے کہ وہ وہ پڑھتے ہیں یا نہیں، محنت کرتے ہیں یا نہیں، اور ان کی تعلیم کے حوالے سے ان کے اسکول کے منتظمین اور اساتذہ سے رابطہ رکھیں گے، پڑھائی میں بچوں کی بہتر کارکردگی نہ ہونے پر اسکول والوں سے باز پرس کریں گے تو ان اسکولوں میں پڑھنے والے آپ کے بچے بھی ضرور کامیاب ہوں گے اور ان کا مستقبل بھی ضرور روشن ہوگا۔ ہم نے تو ایسے کامیاب ترین لوگ بھی دیکھے ہیں جنھوں نے تعلیمی اعتبار سے خستہ حال سرکاری پرائمری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، لیکن اپنی محنت اور لگن کے باعث آج وہ کامیابی کی انتہائی منزلوں پر ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ بچوں کی کامیابی اور ناکامی میں اسکول اور اس کے اساتذہ کے ساتھ بچوں کی اپنی محنت اور ماں باپ یا سرپرست کی توجہ اور تربیت کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔

 بچوں کی کامیابی و ناکامی میں اسکول، اساتذہ اور سرپرستوں کی توجہ اور تربیت کی اہمیت پر ہم آگے چل کر کچھ تفصیلی گفتگو کریں گے إن شاء الله۔

لہذا آپ یہ خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ اسلامی تعلیم کے حامل اسکولوں میں بچوں کی بہتر تعلیم نہ ہو پائے گی، کیونکہ وہاں کی تعلیم نسبتاً کمزور ہے، جب کہ مشنریوں اور ششو مندروں میں پڑھانے سے ان کا مستقبل روشن ہو جائے گا۔ اپنے بچوں کو مشنریوں اور ششو مندروں میں پڑھانے والوں کو خود اپنے بارے میں بھی غور کر لینا چاہیے کہ مشنریوں اور ششو مندروں میں اپنے بچوں کو ڈال کر کہیں وہ خود اپنی ذمہ داریوں سے تو نہیں بھاگ رہے ہیں، اور انھیں خود اپنے ایمان و اسلام کا بھی جائزہ لے لینا چاہیے کہ خود ان کے اندر اسلامی مزاج اور مذہبی پختگی ہے یا نہیں۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دوسری قسط پڑھنے کے لیے لفظ ⬇️جاری⬇️ پر دبائیں

(  جاری.......... )
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹




نکاح اور فکر معاش کا اسلامی نظریہ

 ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتحپوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
١۰ مارچ _منگل_۲۰۲۰

نکاح اور فکر معاش - اسلامی نقطۂ نظر سے 


مرد و زن کا جنسی تعلق انسانی زندگی کی بقا کی بنیاد ہے، اس لیے اسے نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ یوں ہی بے ہنگم، بے نظام چھوڑا جا سکتا ہے ورنہ انسانی معاشرے کا نظام تہ و بالا ہو جائے گا اور سماج میں وہ فتنے اٹھیں گے کہ اللہ کی پناہ۔

مذہب اسلام نے اس انسانی ضرورت پر بھر پور توجہ دی اور مرد و عورت کے جنسی اختلاط کے لیے ایسا قابلِ تقلید لائحۂ عمل پیش کیا جس سے مرد و عورت کی جنسی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے، انسانی زندگی کی بقا کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے، سماجی نظام بھی سلامت رہتا ہے اور مرد و عورت کے حقوق کی حفاظت بھی ہو جاتی ہے۔ اسلام نے اس لائحۂ عمل کو نکاح کا نام دیا ہے۔ آئیے سب سے پہلے اس نکاح کے بارے میں کچھ اہم باتیں جانتے ہیں :

* نکاح کا لغوی و شرعی معنیٰ * 


لسان العرب میں ہے کہ نکاح کا معنی عملِ ازدواج ہے، یعنی مرد و عورت کا ہم بستر ہونا۔ اور تزوج یعنی شادی کو بھی نکاح کہتے ہیں کہ وہ عملِ ازدواج کا سبب ہے۔
شریعت میں نکاح اس عقد کو کہتے ہیں جو اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ مرد و عورت کا ایک دوسرے سے جماع اور قربت کرنا حلال ہو جائے۔

* نکاح کا حکم * 


فقہ حنفی کی شہرۂ آفاق کتاب 'رد المحتار' میں ہے کہ نکاح کرنا واجب العین ہے۔ اس سلسلے میں فرض اور سنت موکدہ کا قول بھی ملتا ہے۔ ان سب کے درمیان تطبيق اس طرح دی جاتی ہے کہ اگر کسی کو اس بات کا یقین ہے کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں وہ گناہ کر بیٹھے گا تو نکاح کرنا اس پر فرض ہے۔ اور اگر گناہوں سے آلودہ ہونے کا یقین تو نہ ہو لیکن گمانِ غالب ہو تو نکاح کرنا واجب ہے۔ اور اگر ایسی کوئی بات نہ ہو تو نکاح کرنا سنت موکدہ ہے۔
اسی طرح اگر یقین ہے کہ حق زوجیت ادا نہ کر سکے گا، یا بیوی پر ظلم کرے گا تو نکاح کرنا حرام ہے، اور ایسی باتوں کے ہونے کا گمانِ غالب ہو تو نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ ( رد المحتار، کتاب النکاح ، ج : 2، ص : 283)

* شادی کے حوالے سے فکرِ معاش اور اسلامی نقطہ نظر *


آج ہمارے معاشرے کا  ایک عام مزاج یہ بن گیا ہے کہ لڑکوں کے ماں باپ یا سرپرست ان کی شادی کے حوالے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ لڑکے جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے، بر سرِ روزگار ہو جائیں گے اور کسی اچھی ملازمت یا کامیاب تجارت سے وابستہ ہو جائیں گے تب ان کی شادی کریں گے۔ اور لڑکیوں کی شادی کے بارے میں یہ فکر رکھتے ہیں کہ کوئی بر سرِ روزگار، نوکری پیشہ، پیسے والا لڑکا ملے گا تو ان کی شادی کریں گے۔ 

ماں باپ اور سرپرست اپنی اس فکر کے نتیجے میں اپنے لحاظ سے مناسب وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اُدھر لڑکوں اور لڑکیوں کی جوانی کا قیمتی وقت گزرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ان کی عمر اچھی خاصی ہو جاتی ہے، بلکہ بعض کی عمر تو ڈھلنے لگتی ہے اور اب مناسب رشتہ تو کیا کوئی بھی رشتہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بعض ماں باپ اور سرپرست اپنے اس نظریے میں اتنے ڈھیٹ اور ضدی ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کے جذبات اور ان کی خواہشات کو یک سر نظر انداز کر دیتے ہیں، لڑکیاں چاہتی ہیں کہ کسی شریف لڑکے سے ان کی شادی کر دی جائے، گو وہ مال دار نہ ہو، لیکن ماں باپ امیر لڑکے کی ہوس میں لڑکیوں کی اس خواہش کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور انھیں ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتے ہیں اور پھر ایک وقت وہ آتا ہے کہ کوئی مناسب رشتہ نہیں ملتا اور اب وہ لڑکی کو بھوج سمجھنے لگتے ہیں اور اُدھر لڑکی جس اذیت و کرب سے گزر رہی ہوتی ہے وہ نا قابل بیان ہے۔

اسی طرح بہت سے لڑکے جو کسی بڑی پوسٹ یا بڑے کاروبار سے منسلک نہیں ہوتے چاہتے ہیں کہ مناسب عمر میں ان کی شادی ہو جائے لیکن ان کے ماں باپ اس امید پر شادی ٹالتے رہتے ہیں کہ پہلے بیٹا بڑی نوکری حاصل کر لے یا بڑا کاروبار کرنے لگے، پھر شادی کریں گے اور اس طرح ان کی شادی میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔

ایسے ماں باپ اور سرپرستوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ ان کے بچوں کے حق میں شرعی، طبی اور جنسی نقطہ نظر سے نہایت خطرناک ہے، ان کے اس عمل سے بچے بگڑ سکتے ہیں، جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہو سکتے ہیں، دماغی اور جسمانی طور پر بیماری کے شکار ہو سکتے ہیں اور مذہبی اعتبار سے گمراہ ہو سکتے ہیں۔ 

ذرا نظر اٹھا کر اپنے سماج کا جائزہ لیں، بہت سے نوجوان ایسے مل جائیں گے جو شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور شادی نہ ہونے کی وجہ سے جنسی بے راہ روی کے شکار ہیں، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ، جنسی استحصال اور آبرو ریزی جیسے واقعات اس کا نمونہ ہیں۔ شادی میں تاخیر کی وجہ سے لڑکیوں میں جو مفاسد در آئے ہیں وہ بھی کم نہیں ہیں، مناسب عمر پر شادی نہ کرنے کے سنگین نتائج آۓ دن ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔


اس لیے اولاد کی شادی کے حوالے سے اپنا فاسد نظریہ ترک کیجئے اور اسلامی نظریہ اختیار کیجئے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اولاد شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کی شادی کر دی جائے اور معاشی اعتبار سے اس کی خوش حالی کا مسئلہ اللہ کو سونپ دیا جائے، اللہ اپنے فضل سے اور شادی کی برکت سے اسے غنی فرما دے گا۔ شادی کے حوالے سے قرآن کا نقطہ نظر یہی ہے۔

ارشاد ربانی ہے :
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ.

ترجمہ : اور نکاح کر دو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں، اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔ اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔( سورۃ النور، آیت : 32 )

دیکھو، قرآن ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ تمہارا کام ہے صرف اولاد کی شادی کر دینا۔ انھیں بر سرِ روز گار کرنا، غنی کرنا تمھارا کام نہیں ہے۔ انھیں غنی کرنا، خوش حال زندگی دینا اللہ کا کام ہے، اور اللہ شادی کی برکت سے انھیں غنی فرما دے گا۔

جب اللہ صاف صاف ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اپنے فضل سے شادی شدہ جوڑے کو غنی کر دیں گے تو پھر ایک مسلمان کیوں اپنی اولاد کی شادی میں تاخیر کرتا ہے؟ کیوں ان کے غنی ہو جانے کا انتظار کرتا ہے؟ کیوں ان پر جبر کر کے انھیں ذہنی اذیت دیتا ہے؟ اور کیوں ان کی زندگی برباد کرتا ہے؟

کیا مسلمان کو قرآن پر اور اللہ کے ارشاد پر بھروسہ نہیں رہا؟ یا اس کا ایمان کمزور ہو گیا ہے؟ یا اس کو قرآن کا یہ پیغام معلوم ہی نہیں ہے؟

کچھ بھی ہو یہ ایک مسلمان کی سخت کوتاہی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے، نسلیں بگڑ رہی ہیں، اور ان کی دنیا و آخرت خراب ہو رہی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو بے دار ہونے کی ضرورت ہے، اپنے بچوں کی زندگی بچانے کی ضرورت ہے، معاشرے کو فاسد ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی نقطہ نظر کو دل سے ماننے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

آئیے آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں گے، مناسب عمر میں کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر ان کی شادی کر دیں گے اور ان کی خوش حالی اور غنا کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں گے اور یہ یقین رکھیں گے اللہ ہمیں ہماری نیتوں کا اجر ضرور عطا فرمائے گا، إن شاء الله۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
       ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
        گِرہ کُشا  ہے نہ رازی ، نہ صاحبِ کشّاف
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹




ضروری اقدامات فوری طور پر عمل کی ضرورت

 ابو رَزِین مولانا محمد ہارون مصباحی فتح پوری ✍️
🕯استاذ : الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،اعظم گڑھ🕯
29 فروری، 2020، سنیچر

ضروری اقدامات جنھیں تشدد زدہ دہلی میں فوری طور پر عمل  میں لانے کی ضرورت ہے


دہلی کے موجودہ حالات سے آپ سب واقف ہیں، وہاں جو فسادات ہوئے ہیں وہ اتنے خوفناک ہیں کہ ان کی سنگینی کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ معصوموں کے خون سے ظلم و تشدد کی جو داستان دہلی میں لکھی گئی ہے وہ اتنی خوفناک ہے کہ اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

 ان دنگوں سے مسلمانوں کو جان و مال کا جو بھاری نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی میں ایک زمانہ لگے گا، پھر بھی کہا نہیں جاسکتا کہ تلافی ہو بھی پاۓ گی یا نہیں۔

ان دنگوں میں جو لوگ مارے جا چکے ہیں انھیں زندہ نہیں کیا جا سکتا ہے اور جو مال و سامان تباہ و برباد کیا گیا ہے اسے واپس بھی نہیں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن جان و مال کے اس نقصان کے علاوہ کچھ اور بھی امور ہیں جن کی تلافی ابھی ہو سکتی ہے اور مناسب اقدامات کئے جائیں تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور اچھا خاصا سرمایہ بچایا جا سکتا ہے۔ ورنہ اگر ہم نے فوری اقدامات نہیں کئے تو امت مسلمہ کو مزید نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ان دنگوں میں بہت سے لوگ مارے گئے ہیں، بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں، سیکڑوں گھر جلا دیے گئے ہیں، گھروں کا سارا سامان یا تو لوٹ لیا گیا ہے یا جلا کر راکھ کر دیا گیا ہے۔ سارا اثاثہ ختم ہو جانے اور کرفیو لگ جانے کے سبب کئی علاقوں میں کھانے پینے کی چیزوں کا قحط پڑ گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی اب تک کوئی خبر نہیں ہے۔

 ایک بلا یہ بھی نازل ہوئی ہے کہ بہتوں کو محض شبہے کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے اور آگے بھی جاری رہنے کے آثار ہیں۔

ایک دل دہلا دینے والی خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ بلوائیوں نے بہت سے لوگوں کو اغوا کر لیا ہے، سینکڑوں بچوں کو چھین لے گئے ہیں اور درجنوں لڑکیوں کو اٹھا لے گئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے کچھ پتا نہیں ہے۔

ایسے بھیانک حالات میں ملی تنظیموں، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور قوم کے بااثر لوگوں کو بے دار ہو جانا چاہیے اور اپنی ملی ذمہ داری نبھاتے ہوئے دہلی کے فساد متاثرین کی فوری مدد کرنی چاہیے۔ ان مظلوموں، بے سہاروں، حالات کے ماروں کی کیا مدد کی جائے اور کیسے کی جائے اس بارے میں آپ خود غور کریں اور جو بہتر لگے کریں۔
اس وقت ہمارے ذہن میں کچھ قابل لحاظ امور ہیں جو فساد متاثرین کی مدد کے حوالے سے کارآمد ہو سکتی ہیں۔ آپ انھیں بھی عمل میں لائیں اور ضروری اقدامات کریں : 

1 :
بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں اور ان کی لاشیں اسپتالوں، پوسٹ مارٹم ہاؤسز یا حکام کے پاس ہیں۔ لاشوں کے حصول کے لیے ان کے اہل خانہ کو حکام کی طرف سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کریں، لاشوں کی دستیابی کے لیے آپ سے جو ہو سکے کریں اور ان کی تکفین و تدفین میں بھی تعاون کریں اور تدفین میں ضرور حصہ لیں۔
2 :
 جو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کو اسپتال پہنچائیں، جو اسپتال میں ایڈمٹ ہیں ان کی عیادت کے لیے جائیں، ان کی مالی امداد کریں، ان کی شفا یابی کے لئے دعا کریں اور مساجد و محافل میں دعاؤں کا اہتمام کریں، ان کے اہل خانہ کو ہمت دلائیں، ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں، ان کے گھر کے افراد کی حفاظت کریں، اور اگر اسپتال میں ان کے پاس ٹھہرنے کی ضرورت محسوس ہو تو ٹھہر جائیں یا کچھ لوگوں کو اس کام کے لیے مقرر کر دیں۔
3 :
جن کے مکانات جلا دیے گئے ہیں یا جو ڈر کر اپنے گھروں سے بھاگ آۓ ہیں اور اب ان کے پاس نہ رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ کھانے کے لیے سامانِ خورد و نوش، ایسے بے سہاروں کی فوری مدد کریں، اپنے گھر میں ٹھہرا لیں یا ان کے رہنے اور کھانے پینے کے لیے کوئی مناسب بندوبست کریں۔
4 :
جن کے گھروں کا اثاثہ لوٹ لیا گیا یا جلا دیا گیا ہے اور جن کے گھروں میں خوراک کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے ان کے لیے کھانے پینے کا سامان مہیا کریں۔ اگر کسی علاقے میں کرفیو لگا ہوا ہے تو کسی بھی تدبیر سے راشن کا سامان وہاں تک پہنچائیں۔
5 :
 جو بے قصور مسلمان گرفتار کر لئے گئے ہیں یا گرفتار ہوں گے ان کی رہائی کی کوشش کریں، ان کی مالی و قانونی مدد کریں، سیاسی لیڈروں سے رابطہ کریں، اچھے وکیلوں سے چارہ جوئی کریں، اور ان کے لیے ہر طرح کی مدد مہیا کریں۔ 
6 :
 جن بڑوں، بزرگوں، بچوں اور بیٹیوں کو اغوا کر لیا ہے ان کا پتا لگانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں، حکومت اور حکام کو اطلاع دیں، ان پر اور تمام سیاسی جماعتوں پر ان کی تلاش کے لیے دباؤ بنائیں، میڈیا کا سہارا لیں اور ہر امن پسند مسلم و غیر مسلم شہری سے مدد کی اپیل کریں۔
7 :
فساد زدہ علاقوں کا دورہ کریں، متاثرین سے ملیں اور ان کے حالات کی خود ان سے خبر لیں، انھیں ڈھارس بندھائیں، ان کے آنسو پوچھیں، ان کا غم کھائیں اور ان کا دکھ ہلکا کریں، ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیریں، ہو سکے تو ان کے ساتھ رو لیں کہ اس سے ان کا غم ہلکا ہو گا۔ ان سے ان کی ضرورت پوچھیں، ان کی مدد کریں اور انہیں ان کے ساتھ کھڑے رہنے اور ہر ممکن مدد مہیا کرنے کا بھروسہ دلائیں۔
8 :
 ملک کے مختلف علاقوں میں سرگرم ملی تنظیمیں، اسلامی ادارے، مسلم قائدین اور علماء و مشائخ اپنے اپنے علاقوں کے مسلمانوں سے دہلی کے مظلوم مسلمانوں کے لیے مدد کی اپیل کریں، چندہ جمع کریں اور اسے متاثرین تک پہنچائیں۔
9 :
 دہلی میں موجود اہل علم، صحافی اور نامہ نگار حضرات متاثرین سے ملیں، ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، حادثات اور ان پر ہونے والے مظالم کی جان کاری لیں، معلومات جمع کریں، اور ان معلومات کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچائیں، اخبارات میں شائع کرائیں، اور ایسی تمام خبریں نیوز چینلوں میں چلوائیں اور اس معاملے میں  معتدل سوچ کے حامل غیر مسلم اہل علم اور صحافیوں کی بھی مدد لیں، تاکہ ساری دنیا کو ایسے حالات کا علم ہو سکے اور دہلی کے مظلوموں کو سب کا ساتھ مل سکے۔
10 :
دہلی کے فسادات نے ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اور دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ ہندوستان میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہندوستان کی کرکری ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے متعصب سیاسی لیڈر اور متعصبانہ ذہنیت رکھنے والی میڈیا نے اس داغ کو مٹانے کے لیے یہ حربہ اپنایا ہے کہ مسلم متاثرین کو چھوڑ کر صرف غیر مسلم متاثرین کی خبریں نیوز چینلز پر چلائی جا رہی ہیں اور ان خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی  فساد پھیلانے والے اصل مجرموں کو چھوڑ کر کچھ ایسے مسلم چہرے تلاش کیے جا رہے ہیں جن کے سر ان فسادات کا الزام عائد کیا جا سکے، بلکہ کچھ چہروں کی تلاش پوری بھی ہو چکی ہے اور ان کو فساد کے اصل مجرموں کی حیثیت سے پیش کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔
آپ حضرات میڈیا کی اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم عمل ہو جائیں، مسلم متاثرین سے تعلق رکھنے والی خبریں اور وڈیوز کو زیادہ سے زیادہ عام کریں، آرٹیکل لکھیں، غیر جانب دار اخبارات اور نیوز چینلوں کا سہارا لیں اور دنیا کو حقائق سے آشنا کریں۔
11 :
جاگ جائیں، اپنی بے حسی ختم کریں، اور سرگرم عمل ہو جائیں، اپنی اور قوم کی بقا کے لئے حرکت کریں، اور دل و زبان میں لگا ہوا تالا توڑ دیں، ذاتی مفاد کے لئے بہت کچھ کر چکے، اب قومی مفاد کے لئے بھی کچھ کر لیں۔
خدا کے لیے اب تو سنجیدہ ہو جائیں اور سوشل میڈیا پر عشق و معاشقہ اور ہنسی مذاق سے متعلق مواد ایسے حالات میں تو نہ پھیلائیں، اپنی تصاویر اور اپنے وڈیوز ان حالات میں تو نہ اپلوڈ کریں۔ قوم و ملت سے متعلق مواد شییر کریں، اور حالات حاضرہ کی خبریں اپلوڈ کریں۔
12 :
فی الوقت جلسے جلوس پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے وہی پیسہ فساد متاثرین پر خرچ کریں تو بہت بہتر، بلکہ آج کے حالات کے لحاظ سے قومی ضرورت ہے، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کم از کم ان جلسوں میں حالات حاضرہ پر ہی گفتگو کر لیں اور قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کریں۔
13 :
خود بھی صبر، دانائی اور ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور متاثرین کو بھی حوصلہ دلائیں، اور غصے، غضب میں کوئی ایسی نادانی نہ کریں جو آپ کے لیے اور آپ کے ساتھ امت مسلمہ کے وبال بن جائے۔

یہ چند امور ہیں جنہیں عمل میں لانا بہت ضروری ہے اور فوری اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ ہندوستان کے ہر مسلمان، ہر سیاسی و مذہبی قائد اور ہر ملی تنظیم کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ فساد متاثرین کی مدد ہو سکے اور ملک کے مسلمانوں کا مستقبل بہتر ہو سکے۔


🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
         احساس مر نہ جائے تو انسان کے لیے
         کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹